کیا واقعی ہم حسینی ہیں؟؟
کچھ الفاظ میرے قلم سے)
کچھ واقعات اتنے الم ناک ہوتے ہیں کہ ان سے متعلق سوچتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن واقعہ کربلا تاریخ کا وہ واحد واقعہ ہے جس کو سوچتے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ دل سے بے اختیار نکلتا ہے ۔
”سلام یا حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) “
ہم شرمندہ ہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)۔ ہم ناقدروں نے تیرے پیاروں کی قربانی کی قدر نہیں کی ۔ ہم غفلت کے مارے چھوٹی سے مصروفیت کی خاطر۔ نماز چھوڑ دینے والے یہ بھول گئے ہیں کہ حسین ابن علی المرتضی نے سجدے کی خاطر سر کٹوایا ۔ یزید کبھی بھی ان کو زیر نا کر سکتا تھا اگر وہ سجدے کی حالت میں نا ہوتے وہ جس نے موت سرھانے رکھ کر نماز ادا کی ۔ ہم اپنی جان بچانے کی خاطر باطل کا ساتھ دینے والے کہیں کوفے والوں کا ساتھ تو نہیں نبھا رہے ۔ ہم بھول گئے کہ آلِ نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے کس طرح اس دین کو بچایا جن لبوں پر اللہ کا ذکر آخری وقت تک رہا ان لبوں کو پانی کے لیے ترسایا گیا ان پر خنجر چلایا گیا ان کے لاشوں کو کربلا کی خاک میں رلایا گیا ۔ وہ کربناک ،اذیت ناک گھڑی جب بھائی بیٹوں کے لاشوں کو خاتونِ جنت کی شہزادی نے دیکھا ہو گا خون میں لت پت سر تن سے جدا۔ وہ خاتم النبین کے کاندھوں پر کھیلنے والے کربلا کی خاک پر کٹ گئے لیکن باطل کے آگے سرنگوں نا کیا وہ سب کچھ لٹا کر بھی سب پا گئے اور یزید بچ کر بھی مر گیا ،
تیری بہادری تیری صداقت کو سلام یا حسین
تیرے حوصلے تیری ہمت کو سلام ، بی بی زینب کے جگر کے گوشوں پر سلام ، بھائی کے لاشے کو دیکھتی بہن کے حوصلے کو سلام، وہ ایک بوند پانی کو ترستے ہوئے ہونٹوں پر سلام ، واقعہ کربلا کرب سے بھرپور واقعہ ہے یہ جنگ نہیں ظلم کی تاریخ ہے جس میں ظلم کی انتہا کو پار کیا گیا۔ کوفیوں نے دروازے بند کر لیے ، یزیدیوں نے ظلم ڈھائے اذیتیں دیں لیکن یہ جنگ نہیں معرکۂ حق و باطل تھا۔ ہم آہ حسین کہنے والے کیا حسینی ہیں؟؟؟ کیا ہم حق کے لیے ڈٹ جانے والے ہیں؟ ہم نفس سے نہیں لڑ سکتے ہم خاک لڑیں گے حق کی خاطر ناموس رسالت پر چپ لیکن عورت مارچ پر سڑکوں پر آ کر نعرے لگانے والے ، دس دن لبیک یا حسین کہہ کر بھول جانے والے ہم تو خود کو بری الذمہ سمجھ بیٹھے ہیں؟؟ کربلا کے میدان میں میرے نبی کا سارا گھرانہ قربان ہوا صرف نانا کے دین کو بچانے کی خاطر اور اگر بات پاکستان بنانے والوں کی قربانیوں کی جائیں تو برصغیر پاک وہند سے مسلمانوں کو الگ مملکت دلانے کے لیے ہمارے آباء لٹے ، جانی اور مالی نقصان برداشت کیے صرف اسں لیے کہ اس دین پر آزادنہ عمل پیرا ہو سکے ۔ لیکن سوچیے ہم تھے اس قابل ؟؟
ہمارے اسلاف نے ہمارے لیے اپنا آپ لٹایا اور اپنا آپ لٹا کر بھی زندہ و جاوید رہے اور ہم تو آج دلوں میں مر جاتے ہیں جھوٹ فریب مکر اور مطلب پرست ہم تو آج موت سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ۔کیا ہم دس دن محرم کے سوگ منا کر اور چودہ دن آزادی کا جشن منا کر اس خون کا حق ادا کر سکتے ہیں جو اس دین کو توانا رکھنے کے لیے بہایا گیا؟؟
آزادی جھنڈیاں لگا کر پیروں تلے روند دینے سے نہیں شکرانے کے نوافل ادا کر منایا کرو اور ہمیں کربلا کو یاد محرم میں نہیں پورا سال رکھنا چاہیے تاکہ ہم میں کوئی کوفی نا بنے کوئی یذیدیت کا پیکر نا ہو جائے۔
صد افسوس!!!! کہ ہم تو اپنی ذات کو بنانے اور سلجھانے میں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو بھلائے بیٹھے ہیں۔۔ ایک قیامت گزری تھی تب آسمان رویا ہو گا عرش پر فرشتے بھی اشکبار ہوئے ہوں گے اس دن تو عرش پر بھی سوگ منایا گیا ہو گا ہم محرم کے دس دن سوگ منا کر تھک جانے والے اس قیامت کا تصور کیوں نہیں کرتے ۔ ہم بے وجہ نماز چھوڑ دینے والے لبیک یا حسین کہتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ حسینی بے نماز نہیں ہوتا ۔ باطل کا ساتھ دے کر فائدہ لینے والے کربلا کا مقصد کیسے بھول سکتے ہیں .
یزید قاتل یزید باطل
حسین ازلاں تو شہنشاہ اے
کمینے اج وی یزید نال ہن
حسینی بابا فرید نال ہن
ہم سر تاپا گناہوں کی گرد سے اٹے ہوئے ، جھوٹ مکر و فریب کے جال میں پھنسے ہوئے، ہم اپنے فائدے کی خاطر جان لینے والے ،ہم اپنی انا پر جذبوں کی دھجیاں اڑانے والے ، ہم حسینی نہیں ہو سکتے ۔ وہ تو ایثار کا درس دینے والے وعدہ وفا کرنے والے نانا کے دین کی خاطر گھرانہ لٹا کر سر کٹا کر سرخرو ہوئے اور ہم قربانیاں لے کر جذبوں کی تجارت کرنے والے بیوپاری ہم اس قابل نہیں ۔
محرم کا احترام کرنا ہم سب پر فرض ہے۔ خدارا فرقہ وارانہ فساد چھوڑ کر . ہم شیعہ سُنی کی بحث سےنکل کر زرا واقعہ کربلا پر نظر ڈالتے ہیں، ایک دوسرے پر طنز کرنے کی بجائے سبھی اس لازوال قربانی کی یاد میں خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس ایثار کے پیچھے چھپے مقصد کو جاننے کی کوشش کریں گے ۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا دین اسلام امن کا گہوارہ ہے .
میری دعا ہے کہ اللہ ہمیں اسوۂ رسول ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم)پر چلنے سنت اور احادیث کے مطابق زندگی گزارنے اور حضرت حسن اورحسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی کو عمر بھر سینے پر تازہ رکھ کر سچا اور پکا مومن بننے کی توفیق دے۔ہمارے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائیں کہ دین بہت قیمتی ہے اس دین کی خاطر ہمارے اسلاف نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ہمیں وعدوں کا پاس رکھنے والا اور باقاعدگی سے نماز ادا کرنے والا بنا دے ۔(آمین)
#ISI_Fans
از قلم عمر فاروق کھچی👤

Comments