1979-2021 افغانستان سوویت جنگ سے طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے تک
1979-1989 سوويت يونين كاقبضه
ماسکو نے دسمبر 1979 میں کمیونسٹ حکومت کی مدد کے لیے افغانستان پر قبضہ کیا۔ افغان مجاہدین نے مغربی ملکوں کی مدد سے سوویت فوج سے جنگ لڑی حتی کہ سوویت فوج فروری1989ء میں انخلا پر مجبور ہو گئی۔
1992-1996 خانہ جنگی
اس عرصے کے دوران افغانستان کی اتحادی حکومت ٹوٹ گئی اور مجاہدین کے مختلف دھڑوں میں طاقت کی رسہ کشی جاری رہی۔جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ ان گروہوں میں طالبان سب سے نمایاں گروہ کے طور پر ابھرے اور بلآخر 1996میں کابل کا کنٹرول حاصل کر لیں۔
طالبان کا دور 1996-2001
اسلامی نظام حکومت کا دعوی کرنے والے طالبان کا دور شروع ہوا جن کی قیادت ملا عمر کر رہے تھے۔ طالبان کے اس دور میں خواتین پر پردے کی سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور انہیں تعلیم اور ملازمت سے بھی دور رکھا گیا۔
2001 مغربی مداخلت
نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ کی قیادت میں مغربی ملکوں کی اتحادی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور طالبان کی حکومت ختم ہو گئی۔ حامد کرزئی کو عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار غیر ملکی فوجیوں کو تعینات کیاگیا۔
2004-2014 کرزئی کا دور
کرزئی نے افغانستان کاصدارتی انتخاب جیت لیا۔
کرزئی 2009 میں ایک بارپھر صدر منتخب ہوئے مگریہ انتخابات دھاندلی،طالبان کے تشدد اور کم ٹرن آؤٹ کی وجہ سے متنازع بن گئے۔
2014-2016 امریکی انخلا
نیٹو فورسز نے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طور پر افغان فوج اور پولیس کو سونپ دیں۔نئے افغان صدر اشرف غنی نے امریکی اور نیٹو فورسز کو ملک میں رکھنے کا معاہدہ کیا۔ سیکیورٹی کی صورت حال خراب ہوئی۔ جولائی 2016 میں امریکی صدر براک اوباما نے امریکی فوجیوں کے طے شدہ انخلا کی رفتار سست کر دی۔
2017امریکی فوجیوں کی دوباره تعیناتی
نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انخلا کا شیڈول مسترد کر دیا اور افغانستان میں دوبارہ ہزاروں فوجی تعینات کر دیے۔ امریکہ نے فضائی حملے بڑھائے تو افغان فورسز پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔
2020 امریکہ طالبان امن معاہدہ
امریکہ اور طالبان نے 2018 میں شروع ہونے والے مذاکرات کے تناظر میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جس سے تمام غیر ملکی فورسز کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی۔امریکی صدر جو بائیڈن نے انخلا کی ڈیڈ لائن یکم مئی سے بڑھا کر ستمبر 2021 کر دی۔
2021 امریکی انخلا اور طالبان کی کابل میں واپسی
نیٹو نے مئی میں حتمی انخلا شروع کیا تو تشدد میں اضافہ ہو گیا۔ طالبان نے چیک پوسٹس اور اضلاع پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور اگست میں اہم صوبوں کے دارالحکومت بھی ان کے کنٹرول میں آگئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ملک چھوڑ دیا۔ طالبان ایک بار پھر کابل میں داخل ہو گئے اور دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا۔
Welcome to Kabul به کابل خوش آمدید
Report By #ISI_Fans

Comments